کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی رات کے تہجد کے وقت چٹائی یا اس کے متبادل سے حصار بنا سکتا ہے
حدیث نمبر: 2571
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِرُ حَصِيرًا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي إِلَيْهِ ، وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَيَجْلِسُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ النَّاسُ يَثُوبُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُصَلُّونَ بِصَلاتِهِ حَتَّى كَثُرُوا ، قَالَ : فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، خُذُوا مِنَ الأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا ، وَإِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دَامَ وَإِنْ قَلَّ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت چٹائی کا حجرہ بنا لیتے تھے اور اس میں نماز ادا کیا کرتے تھے آپ دن کے وقت اسے بچھا لیتے تھے اس پر تشریف فرما ہوتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے اور آپ کی نماز کی اقتداء میں نماز ادا کرنے لگے یہاں تک کہ لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! اتنے عمل کو اختیار کرو جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہاللہ تعالیٰ تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتا، جسے تم تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہو اوراللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے، جو باقاعدگی سے کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2571
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2562»