کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا استحباب کہ آدمی اپنے اہل کو رات کی نماز کے لیے جگائے، چاہے پانی چھڑک کر
حدیث نمبر: 2567
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي ، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ ، وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا ، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو رات کے وقت اٹھ کر نماز ادا کرتا ہے۔ اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتا ہے اگر وہ بات نہیں مانتی، تو وہ اس کے چہرے پر پانی چھڑک دیتا ہے اوراللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم کرے جو اس وقت نوافل ادا کرتی ہے اور اپنے شوہر کو بھی بیدار کرتی ہے اور وہ بیدار نہیں ہوتا تو وہ عورت اس کے چہرے پر پانی چھڑک دیتی ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2567
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (1181). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2558»