کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی اپنے اہل کو رات کی نماز کے لیے جگائے
حدیث نمبر: 2566
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ فَقَالَ : " أَلا تُصَلُّونَ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ ، وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ : وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54 .
ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں: امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے ان کے والد (سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ) نے انہیں یہ بتایا، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے ہاں تشریف لائے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تم لوگوں نے نماز ادا نہیں کی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہماری جانیںاللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہیں وہ جب ہمیں بیدار کرنا چاہتا ہے وہ بیدار کر دیتا ہے (تو آج اس نے بیدار نہیں کیا، تو ہم بھی نہیں اٹھے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب میں نے یہ گزارش کی تو آپ واپس مڑ گئے آپ نے مجھے کوئی ارشاد نہیں فرمایا: پھر میں نے آپ کو سنا، آپ اپنا ہاتھ مارتے ہوئے یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ ” انسان سب سے زیادہ بحث کرتا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2566
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (749)، «التعليق على صحيح ابن خزيمة» (1140): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2557»