کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ رات کے آخر اور اس کے وسط میں نماز اس کے شروع سے افضل ہے
حدیث نمبر: 2564
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ : أَيُّ قِيَامِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : " نِصْفُ اللَّيْلِ ، أَوْ جَوْفُ اللَّيْلِ " شَكَّ عَوْفٌ .
ابومسلم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا رات کے وقت کونسا قیام افضل ہے، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نصف رات کے وقت کا، یا شاید رات کے درمیان کا ۔“ یہ شک عوف نامی کو ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2564
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الكلم الطيب» (113/ 70 - التحقيق الثاني)، «التعليق الرغيب» (2/ 276). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2555»