کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اپنے فرشتوں کو اس شخص پر تعجب کرتا ہے جو اپنے بستر اور اہل سے اٹھ کر اپنے محبوب سے ملاقات کی خواہش رکھتا ہے
حدیث نمبر: 2558
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ ، بِنَسَا ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ : رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلاتِهِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِمَلائِكَتِهِ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ، ثَارَ عَنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي ، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي ، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ ، وَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الانْهِزَامِ ، وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ ، فَرَجَعَ حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلائِكَتِهِ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ، رَجَعَ رَجَاءً فِيمَا عِنْدِي ، وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِي حَتَّى هُرِيقَ دَمُهُ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” ہمارا پروردگار دو آدمیوں پر خوش ہوتا ہے ایک وہ شخص جو اپنے بستر اور لحاف میں سے اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف جاتا ہے، تواللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو جو اپنے بستر سے اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف آیا ہے اس چیز کی رغبت رکھتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور دوسرا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے اس کے ساتھی پسپا ہو جاتے ہیں وہ شخص جانتا ہے پسپا ہونے پر اسے کیا وبال ہو گا اور واپس (جنگ میں) آنے پر کیا اجر و ثواب ملے گا، تو وہ واپس آتا ہے یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا جاتا ہے، تواللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو یہ اس چیز کی امید رکھتے ہوئے واپس آیا ہے، جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے آیا ہے، جو میرے پاس ہے یہاں تک کے اس کے خون کو بہا دیا گیا ۔“