کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا اثبات کہ جو شخص رات کو تہجد کرتا ہے اور صبح تک اسے جاری رکھتا ہے اس کے لیے خیر ہے
حدیث نمبر: 2556
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ ، ذَكَرٍ وَلا أُنْثَى ، يَنَامُ إِلا وَعَلَيْهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِنْ هُوَ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاةِ أَصْبَحَ نَشِيطًا قَدْ أَصَابَ خَيْرًا ، وَقَدِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا ، وَإِنْ أَصْبَحَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ أَصْبَحَ وَعُقَدُهُ عَلَيْهِ ، وَأَصْبَحَ ثَقِيلا كَسْلانَ لَمْ يُصِبْ خَيْرًا " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو بھی مسلمان مرد یا عورت ہوتا ہے، اس پر گرہیں لگ جاتی ہیں وہ بیدار ہو کراللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اگر وہ وضو کر کے نماز کے لیے اٹھتا ہے، تو وہ چاق و چوبند حالت میں صبح کرتا ہے اس نے بھلائی حاصل کر لی ہوتی ہے اور اس کی تمام گرہیں کھل چکی ہوتی ہیں اور اگر وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہےاللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا تو وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہے اس کی سب گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ بوجھل ذہن کے ساتھ کاہلی کے عالم میں صبح کرتا ہے اسے بھلائی نصیب نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2556
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 213). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2547»