کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: تراویح کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ مرد رمضان میں عورتوں کو جماعت کی امامت کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2550
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ يَعْنِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : " وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ ؟ " قَالَ : نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ : إِنَّا لا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، فَنُصَلِّي بِصَلاتِكَ ، قَالَ : فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ ، قَالَ : فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا ، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! گزشتہ رات مجھے کچھ پریشانی ہوئی یعنی رمضان کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے ابی! وہ کیا تھی؟ انہوں نے عرض کی: میرے گھر کی خواتین نے کہا: ہم قرآن نہیں پڑھ سکتی ہیں، تو ہم آپ کی نماز کی پیروی کریں گی۔ سیدنا ابی نے بتایا: میں نے ان خواتین کو آٹھ رکعات نماز پڑھائی پھر میں نے وتر ادا کر لیے۔ (سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا رضامندی کا اظہار کیا تاہم آپ نے انہیں کچھ کہا: نہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2550
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2541»