کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تراویح کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ رمضان میں قاری عورتوں کو تراویح کی جماعت کی امامت کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2549
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : " وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ ؟ " قَالَ : نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ : إِنَّا لا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، فَنُصَلِّي بِصَلاتِكَ ، قَالَ : فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ ، قَالَ : فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا ، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! گزشتہ رات رمضان کے حوالے سے مجھے کچھ مشکل پیش آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: وہ کیا تھی؟ اے ابی! انہوں نے عرض کی: ہمارے گھر کی کچھ خواتین تھی۔ انہوں نے یہ کہا: ہم قرآن نہیں پڑھ سکتی ہیں ہم آپ کی نماز کی پیروی کرتی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں آٹھ رکعات پڑھائی پھر میں نے وتر ادا کر لیے۔ (سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا رضا مندی کا اظہار کیا آپ نے انہیں کچھ کہا: نہیں۔