کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تراویح کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ رمضان میں لوگوں کی تراویح کی نماز سنت نہیں ہے
حدیث نمبر: 2545
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاتِهِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ ، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَذَاكَرُونَ ذَلِكَ ، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ ، فَخَرَجَ يُصَلِّي بِهِمْ ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ لِصَلاةِ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، ثُمَّ تَشَهَّدَ فَقَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، إِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلاةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات کے وقت مسجد تشریف لے گئے کچھ لوگوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی اگلے دن لوگوں نے آپس میں اس بارے میں بات چیت کی تو زیادہ تعداد میں لوگ اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رات بھی تشریف لے گئے کچھ لوگوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ اگلے دن لوگوں نے آپس میں اس بات کا تذکرہ کیا، تو تیسری رات اہل مسجد کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ نے انہیں نماز پڑھائی لوگوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ چوتھی رات آئی تو مسجد مکمل بھر چکی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے یہاں تک کہ آپ فجر کی نماز کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ نے فجر کی نماز ادا کر لی، تو ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے پھر آپ نے کلمہ شہادت پڑھا۔ اور ارشاد فرمایا: ” امابعد! گزشتہ رات تمہارا معاملہ مجھ سے مخفی نہیں تھا لیکن مجھے یہ اندیشہ ہوا، تم پر رات کے نوافل فرض کر دیئے جائیں گے اور تم اس سے عاجز آ جاؤ گے (یعنی انہیں ادا کر پاؤں گے) ۔“