کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صلاة الضحی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ چاشت کی نفلی نماز کی پابندی کرے
حدیث نمبر: 2532
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ: " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى " ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُسَبِّحُهَا . وَكَانَتْ تَقُولُ: وَكَانَتْ تَقُولُ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ كَثِيرًا مِنَ الْعَمَلِ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ نماز ادا کیا کرتی تھیں وہ یہ بیان کرتی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے عمل اس لیے چھوڑ دیئے تھے آپ کو یہ اندیشہ تھا کہ کہیں لوگ ان کو سنت کے طور پر اختیار نہ کر لیں اور پھر وہ ان پر فرض نہ ہو جائیں۔