کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صلاة الضحی کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی
حدیث نمبر: 2528
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي الضُّحَى إِلا أَنْ يَقْدُمَ مِنْ غَيْبَةٍ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : نَفْيُ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الضُّحَى إِلا أَنْ يَقْدُمَ مِنْ سَفَرٍ أَوْ مَغِيبِهِ ، أَرَادَ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ بِحَضْرَةِ النَّاسِ دُونَ الْبَيْتِ ، وَذَاكَ أَنَّ مِنْ خُلُقِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ ، فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، فَكَانَ أَكْثَرُ قُدُومِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ مِنَ الأَسْفَارِ وَالْغَزَوَاتِ كَانَ ضُحًى مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ، وَنَهَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلا .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز صرف اس وقت ادا کرتے تھے جب آپ سفر سے تشریف لاتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چاشت کی نماز ادا کرنے کی نفی کی ہے۔ البتہ جب آپ سفر سے واپس تشریف لاتے تھے یا (شہر سے) غیر حاضری کے بعد واپس تشریف لاتے تھے (تو اس کا حکم مختلف ہے) آپ کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ آپ لوگوں کو مسجد میں مل لیں نہ کہ گھر پر ملیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق میں یہ بات شامل تھی کہ جب آپ سفر سے واپس تشریف لاتے تھے۔ تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لاتے تھے۔ وہاں دو رکعات ادا کرتے تھے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر کسی سفر سے یا غزوہ سے چاشت کے وقت تشریف لاتے تھے جو دن کا ابتدائی حصہ ہوتا تھا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے۔ کہ کوئی شخص رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس (طویل غیر حاضری کے بعد) چلا جائے۔