کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صلاة الضحی کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف کہمس بن الحسن نے روایت کی
حدیث نمبر: 2527
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : " هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ " ، فَقَالَتْ: " لا ، إِلا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ " . قُلْتُ: قُلْتُ: " هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا؟ " ، قَالَتْ: " نَعَمْ ، بَعْدَمَا حَطَمَهُ السِّنُّ " . قُلْتُ: قُلْتُ: " هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَ السُّوَرِ؟ " ، قَالَتْ: " نَعَمْ ، مِنَ الْمُفَصَّلِ " . قُلْتُ: قُلْتُ: " هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ؟ " ، قَالَتْ: " وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا أَفْطَرَهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عبدالله بن شقیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت نماز ادا کیا کرتے تھے، تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں البتہ اگر آپ سفر سے آتے تھے (تو اس موقع پر اس وقت نماز ادا کر لیتے تھے) میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے انہوں نے فرمایا: جی ہاں! جب آپ کی عمر زیادہ ہو گئی (تو آپ بیٹھ کر نماز ادا کر لیتے تھے) میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورتیں ملا کر پڑھتے تھے انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! آپ مفصل سورتیں (ملا کر) پڑھتے تھے میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کے علاوہ کسی اور متعین مہینے میں روزے رکھتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے علاوہ کسی بھی متعین مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے، یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور نہ ہی آپ نے کبھی کسی مہینے کے روزے چھوڑے ہیں یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2527
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1169). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم يزيد بن زريع سمع من الجويري قبل الاختلاط.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2518»