کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جانور پر نماز پڑھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف ابن وہب نے عمرو بن الحارث سے روایت کی
حدیث نمبر: 2519
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْعَثًا ، فَوَجَدْتُهُ يَسِيرُ مُشْرِقًا وَمُغْرِبًا ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ ، فَانْصَرَفْتُ فَنَادَانِي : " يَا جَابِرُ " ، فَنَادَانِي النَّاسُ : يَا جَابِرُ ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ ، قَالَ : " ذَاكَ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ اس وقت مشرق کی طرف رخ کر کے یا مغرب کی طرف رخ کر کے چل رہے تھے (یعنی آپ سواری پر سوار تھے) میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کیا، پھر میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے اپنے دست اقدس کے ذریعے اشارہ کیا میں واپس آیا (تھوڑی دیر بعد) آپ نے مجھے بلایا: اے جابر! لوگوں نے بھی مجھے بلایا: اے جابر! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے آپ کو سلام کیا تھا لیکن آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس وقت میں نماز ادا کر رہا تھا۔