کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفل نمازوں کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی نفلی نماز جماعت سے پڑھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 2506
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا كَثِيرًا حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَقُولُ لأَخٍ لِي صَغِيرٍ : " يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ " وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَنَضَحْنَا بُسَاطًا لَنَا ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُ أَنَسٍ : وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، أَرَادَ بِهِ وَقْتَ صَلاةِ السُّبْحَةِ ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لا يُصَلِّي صَلاةَ الْفَرِيضَةِ جَمَاعَةً فِي دَارِ أَنْصَارِيٍّ دُونَ مَسْجِدِ الْجَمَاعَةِ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ گھل مل جایا کرتے تھے یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے تھے، اے ابوعمیر! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے، جب نماز کا وقت ہوا، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی چٹائی بچھا دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز ادا کی اور ہم نے آپ کے پیچھے نماز ادا کی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ہے کہ ” نماز کا وقت ہو گیا تھا “ اس سے مراد یہ ہے کہ نفل نماز کا وقت ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز جماعت کے ساتھ کسی انصاری کے گھر ادا نہیں کرتے تھے جو با جماعت نماز والی مسجد کے علاوہ ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2506
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (2304). تنبيه!! رقم (2304) = (2308) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وقد تقدم برقم (2308) أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك، وأبو التياح: يزيد بن حميد الضُّبعي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2497»