کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفل نمازوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس شخص سے کوئی نماز نہیں چھوٹی جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قضاء کرنے کا حکم دیا، جیسا کہ اس نے خبر کو اس کی سمت سے ہٹایا اور اس کی جو تشریح ہم نے بیان کی
حدیث نمبر: 2503
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : " أَنَّ رَجُلا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور یہ ہدایت کی، وہ دو رکعات ادا کر لے پھر وہ شخص اگلے جمعے داخل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی منبر پر تشریف فرما تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے یہ ہدایت کی، وہ دو رکعات ادا کر لے پھر وہ تیسرے جمعے مسجد میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی منبر پر تشریف فرما تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے یہ ہدایت کی، وہ دو رکعات ادا کر لے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2503
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (1470). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابن عجلان، فإنه روى له البخاري تعليقاً ومسلم متابعة، عياض: هو عياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح القرشي العامري المكي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2494»
حدیث نمبر: 2504
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ، وَلا تَعُودَنَّ لِمِثْلِ هَذَا " ، فَرَكَعَهُمَا ثُمَّ جَلَسَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَعُودَنَّ لِمِثْلِ هَذَا " أَرَادَ الإِبْطَاءَ فِي الْمَجِيءِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، لا الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ أُمِرَ بِهِمَا ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا خَبَرُ ابْنِ عَجْلانَ الَّذِي تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ أَنَّهُ أَمَرَهُ فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ أَنْ يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ مِثْلَهُمَا .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مسجد میں آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم دو رکعت ادا کر لو اور آئندہ اس طرح کی حرکت نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے دو رکعات ادا کی اور بیٹھ گئے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تم اس طرح دوبارہ نہ کرنا “ اس سے مراد جمعہ کی طرف آنے میں تاخیر کرنا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان دو رکعت کو دوبارہ ادا کرنے سے منع کیا جا رہا ہے جن کے بارے میں حکم دیا گیا تھا اور اس کے صحیح ہونے کی دلیل ابن عجلان کی نقل کردہ وہ روایت ہے جو اس سے پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے جمعہ میں انہیں یہ حکم دیا تھا کہ وہ اسی طرح دو رکعت ادا کر لیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2504
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الصحيحة» (466 و 2893). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، صرح ابن إسحاق بالتحديث، يعقوب بن إبراهيم: هو ابن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف الزهري المدني.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2495»
حدیث نمبر: 2505
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ " تَصَدَّقُوا " ، فَتَصَدَّقُوا ، فَأَعْطَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ، وَقَالَ : " تَصَدَّقُوا " ، فَأَلْقَى هُوَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ وَقَالَ : " انْظُرُوا إِلَى هَذَا ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ ، فَرَجَوْتُ أَنْ تَفْطِنُوا لَهُ ، فَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ ، فَلَمْ تَفْعَلُوا ، فَقُلْتُ : تَصَدَّقُوا ، فَأَعْطَوْهُ ثَوْبَيْنِ ، ثُمَّ قُلْتُ : تَصَدَّقُوا ، فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ ، خُذْ ثَوْبَكَ " ، وَانْتَهَرَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ ثَوْبَكَ " ، لَفْظَةُ أَمْرٍ بِأَخْذِ الثَّوْبِ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ ضِدِّهِ وَهُوَ بَذْلُ الثَّوْبِ ، وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا أَخْرَجَ شَيْئًا لِلصَّدَقَةِ فَمَا لَمْ يَقَعْ فِي يَدِ الْمُتَصَدِّقِ بِهِ عَلَيْهِ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهِ ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَرْءَ غَيْرُ مُسْتَحَبٍّ لَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ كُلِّهِ إِلا عِنْدَ الْفَضْلِ عَنْ نَفْسِهِ وَعَمَّنْ يَقُوتُهُ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے یہ حکم دیا، وہ دو رکعات ادا کر لے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ صدقہ کرو انہوں نے صدقہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے دیئے ہوئے صدقے سے دو کپڑے اس شخص کو دیئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ صدقہ کرو تو اس شخص نے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا پیش کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا یہ عمل اچھا نہیں لگا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اس شخص کی طرف دیکھو، یہ بری حالت میں مسجد میں آیا تھا مجھے یہ امید تھی، تم لوگ اس کی حالت کا اندازہ لگا کر اس کو صدقہ دے دو گے لیکن تم لوگوں نے ایسا نہیں کیا، تو میں نے کہا: تم لوگ صدقہ دو پھر لوگوں نے اسے دو کپڑے صدقہ دیئے پھر میں نے کہا: تم لوگ صدقہ دو اس نے ان دو کپڑوں میں سے ایک کو پیش کر دیا (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو فرمایا) تم اپنا کپڑا لے لو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تم اپنے کپڑے حاصل کر لو “ یہاں لفظی طور پر کپڑے حاصل کرنے کا حکم ہے لیکن اس سے مراد اس کی برعکس صورت حال سے منع کرنا ہے اور وہ اپنے کپڑے کو (اللہ کی راہ میں) دینا ہے اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جب کوئی شخص صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیز نکالتا ہے اور ابھی وہ اس شخص کے ہاتھ میں نہیں گئی جسے وہ صدقے کے طور پر دینی تھی تو اس شخص کو اسے واپس لینے کا اختیار ہو گا اس میں اس بات کی بھی دلیل موجود ہے کہ آدمی کے لیے یہ بات مستحب نہیں ہے کہ وہ اپنے سارے مال کو صدقہ کر دے البتہ اس کے پاس اپنی ذات اور اپنی خوراک کے علاوہ اضافی مال موجود ہو، تو (وہ اسے خرچ کر سکتا ہے)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2505
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (1470). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابن عجلان وهو ثقة روى له البخاري تعليقاً ومسلم متابعة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2496»