کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفل نمازوں کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی نفلی نماز پڑھے جب اس کی آنکھیں اس پر غالب آئیں، اس ڈر سے کہ وہ نادانستہ کچھ کہہ دے
حدیث نمبر: 2493
حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَرَأَى حَبْلا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : فُلانَةٌ تُصَلِّي فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِتُصَلِّ مَا عَقَلَتْ ، فَإِذَا خَشِيَتْ أَنْ تُغْلَبَ فَلْتَنَمْ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے آپ نے دوستوں کے درمیان رسی بندھی ہوئی دیکھی تو دریافت کیا: یہ کیوں ہے لوگوں نے عرض کی: یہ فلاں خاتون کے لیے ہے، جو نماز ادا کرتی ہے، جب تھک جاتی ہے، تو اس کے ساتھ لٹک جاتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے اس وقت تک نماز ادا کرنی چاہیئے جب تک وہ چاق و چوبند ہو جب اسے اندیشہ ہو، اب اسے نیند آنے لگی ہے، تو پھر اسے سو جانا چاہیئے۔