کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفل نمازوں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی جب تازگی ہو تو نفل پڑھے اور جب تازگی نہ ہو تو چھوڑ دے
حدیث نمبر: 2492
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبَلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : لِزَيْنَبَ تُصَلِّي ، فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ ، قَالَ : " حُلُّوهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ ، فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، تو وہاں دو ستونوں کے درمیان رسی لٹکی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کس کی ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی ہے وہ نماز ادا کرتی ہیں، جب وہ تھک جاتی ہیں، تو اسے پکڑ لیتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھول دو پھر آپ نے ارشاد فرمایا: آدمی کو چاق و چوبند ہونے کی حالت میں نماز ادا کرنی چاہیئے اسے تھکاوٹ محسوس ہو یا طبیعت مائل نہ ہو، تو پھر بیٹھ جانا چاہیئے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2492
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1185): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، يعقوب الدورقي: هو يعقوب بن إبراهيم بن كثير بن زيد بن أفلح العبدي مولاهم أبو يوسف الدورقي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2483»