کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفل نمازوں کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کی تمام نفلی نمازیں گھر میں پڑھنا اس کے اجر کو بڑھاتا ہے
حدیث نمبر: 2491
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً مِنْ حُصُرٍ فِي رَمَضَانَ ، فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ ، فَصَلَّى بِصَلاتِهِ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ ، قَالَ : فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ : " قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلا الْمَكْتُوبَةَ " .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں چٹائی سے بنا ہوا حجرہ بنوا لیا آپ اس میں رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتے تھے آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے آپ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کی جب آپ کو لوگوں کے بارے میں علم ہوا، تو آپ بیٹھنے لگے (یعنی ان کے پاس نماز کے لیے تشریف نہیں لے جاتے تھے) راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ نے فرمایا: مجھے اندازہ ہو گیا تھا جب میں نے تمہارا طرز عمل دیکھا تھا اے لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز ادا کیا کرو کیونکہ آدمی کی سب سے افضل نماز وہ ہے، جو وہ اپنے گھر میں ادا کرے البتہ فرض نماز کا حکم مختلف ہے۔