کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفل نمازوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ فجر کی دو رکعتوں کے بعد اپنی دائیں طرف لیٹے
حدیث نمبر: 2467
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ : قَالَ مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالأَوَّلِ مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ صَلاةِ الْفَجْرِ بَعْدَ أَنْ يَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلإِقَامَةِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مؤذن جب فجر کی نماز کی پہلی اذان دے کر خاموش ہوتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر دو مختصر رکعات فجر کی نماز سے پہلے ادا کر لیتے تھے یہ صبح صادق ہو جانے کے بعد ادا کرتے تھے، پھر آپ اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے تھے یہاں تک کہ مؤذن آپ کو نماز قائم ہونے کی اطلاع دینے کے لیے آ جاتا تھا۔