کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وتر نماز کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی ایک رات میں دو بار وتر پڑھے، ایک رات کے شروع میں اور دوسرا آخر میں
حدیث نمبر: 2449
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، قَالَ : زَارَنِي أَبِي يَوْمًا فِي رَمَضَانَ ، فَأَمْسَى عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ ، فَقَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ ، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، ثُمَّ قَدَّمَ رَجُلا ، فَقَالَ : أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ " .
تیس بن طلق بیان کرتے ہیں: ایک دن میرے والد رمضان کے مہینے میں مجھ سے ملنے کے لیے آئے وہ شام تک ہمارے ہاں رہے۔ انہوں نے افطاری کی پھر اس رات انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی تو وتر بھی ادا کر لیے پھر وہ مسجد تشریف لے گئے وہاں انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بھی نماز پڑھائی۔ پھر انہوں نے ایک شخص کو آگے کیا، اور بولے: تم اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھا دو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ایک ہی رات میں دو مرتبہ وتر ادا نہیں کیے جاتے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2449
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1293). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2440»