کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وتر نماز کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی وتر کو رات کے آخر تک مؤخر کر سکتا ہے اگر وہ تہجد کی امید رکھتا ہو، اور اسے جلدی پڑھ لے اگر وہ تہجد سے مایوس ہو
حدیث نمبر: 2446
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَأَبُو يَعْلَى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ : " مَتَى تُوتِرُ ؟ " قَالَ : أُوتِرُ ثُمَّ أَنَامُ ، قَالَ : " بِالْحَزْمِ أَخَذْتَ " ، وَسَأَلَ عُمَرَ : " مَتَى تُوتِرُ ؟ " قَالَ : أَنَامُ ، ثُمَّ أَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَوْتِرُ ، قَالَ : " فِعْلَ الْقَوِيِّ أَخَذْتَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: تم وتر کب ادا کرتے ہو۔ انہوں نے عرض کی: میں وتر ادا کرتا ہوں اور پھر سو جاتا ہوں (یعنی سونے سے پہلے ادا کرتا ہوں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے احتیاطی طریقے کو اپنایا ہے، پھر آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: تم وتر کب ادا کرتے ہو انہوں نے عرض کی: میں سو جاتا ہوں پھر بیدار ہو کر وتر ادا کر لیتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے قوی شخص کے طریقے کو اختیار کیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2446
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1288)، «الصحيحة» (2596). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، ومتنه صحيح، يحيى بن سليم- وهو الطائفي- قال الدارقطني: سيّىء الحفظ، وقال المؤلف في " الثقات ": يخطىء، وقال أبو حاتم: شيخ صالح محله الصدق، لم يكن بالحافظ يكتب حديثه ولا يحتج به، وقال الساجي: صدوق يهم في الحديث، وأخطأ في أحاديث رواها عن عبيد الله بن عمر، وقال النسائي: ليس به بأس، وهو منكر الحديث عن عبيد الله بن عمر، وقال الحافظ في " المقدمة "ص 451: لم يخرج له الشيخان من روايته عن عبيد الله بن عمر شيئا. وباقي رجال السند على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2437»