کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وتر نماز کا بیان - اس وقت کا ذکر کہ آدمی رات کو وتر پڑھے اگر وہ اپنے تہجد کے بعد اسے ادا کرے
حدیث نمبر: 2444
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : مَتَى كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: " إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ يَعْنِي: الدِّيكَ . " وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ وَإِنْ قَلَّ " .
مسروق بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کب ادا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب آپ مرغ کی آواز سنتے تھے۔ آپ کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل وہ تھا جو باقاعدگی سے کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔