کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وتر نماز کا بیان - اس وقت کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اگر رات کو تہجد پڑھتا ہو تو اس میں وتر ادا کرے
حدیث نمبر: 2443
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " كُلُّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُهُ وَأَوْسَطُهُ ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ إِلَى السَّحَرِ " .
سروق بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ہر حصے میں، ابتدائی میں بھی درمیانی میں بھی، وتر ادا کر لیتے تھے جب آپ کا وصال ہوا، تو آپ کے وتر ادا کرنے کا آخری وقت صبح صادق سے کچھ پہلے تک تھا۔