کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وتر نماز کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی نو رکعتوں سے وتر پڑھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 2442
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوْتَرَ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ لَمْ يَقْعُدْ إِلا فِي الثَّامِنَةِ ، فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلا يُسَلِّمُ ، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ وَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَدْعُو ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَاهُ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نو رکعات وتر ادا کرتے تھے، تو آپ صرف آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھتے تھے، پھر آپاللہ تعالیٰ کی حمد ثناء بیان کرتے تھے اس کا ذکر کرتے تھے اس سے دعا مانگتے تھے، پھر آپ کھڑے ہو جاتے تھے آپ سلام نہیں پھیرتے تھے، پھر آپ نویں رکعت ادا کرتے تھے اوراللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔ اس سے دعا مانگتے تھے، پھر آپ بلند آواز میں سلام پھیرتے تھے اس کے بعد آپ بیٹھ کر دو رکعت ادا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2442
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2433»