کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وتر نماز کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ آدمی اگر سات رکعتوں سے وتر پڑھے
حدیث نمبر: 2441
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يُصَلِّي سَبْعَ رَكَعَاتٍ ، وَلا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلا عِنْدَ السَّادِسَةِ ، فَيَجْلِسُ وَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَدْعُو " .
سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی نماز کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک اور آپ کے وضو کا پانی تیار کر کے رکھتے تھے۔ جباللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا آپ رات کے وقت اٹھ جاتے تھے۔ آپ مسواک کرتے تھے، وضو کرتے تھے۔ پھر سات رکعات ادا کرتے تھے۔ آپ ان کے درمیان صرف چھٹی رکعات کے بعد بیٹھتے تھے۔ آپ بیٹھ کراللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے اور دعا مانگتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2441
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 33)، «صحيح أبي داود» (1213): م مطولا، والآتي بعده بعض منه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2432»