کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وتر نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بعض راتوں میں رات کی نماز میں ایک سے زیادہ رکعتوں سے وتر پڑھتے تھے، نہ کہ ہر رات
حدیث نمبر: 2437
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ ، لا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْخَمْسِ إِلا فِي آخِرِهِنَّ ، يَجْلِسُ ثُمَّ يُسَلِّمُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تیرہ (13) رکعات ادا کیا کرتے تھے جن میں سے پانچ رکعات وتر ہوتی تھیں۔ آپ ان پانچ رکعات کے درمیان بیٹھتے نہیں تھے صرف ان کے آخر میں بیٹھتے تھے، پھر آپ بیٹھ کر (تشہد) پڑھتے اور سلام پھیر دیتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2437
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صلاة التراويح» (104 - 105)، «صحيح أبي داود» (1230): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2428»