کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وتر نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ہر چار رکعت ایک سلام سے اور تین رکعت وتر ایک سلام سے پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 2430
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ : كَيْفَ كَانَتْ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ : " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ، وَلا فِي غَيْرِهِ ، يَزِيدُ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً : يُصَلِّي أَرْبَعًا ، فَلا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا ، فَلا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاثًا " .قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، " إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ ، وَلا يَنَامُ قَلْبِي " .
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں (رات کے وقت) نفل نماز کیسے ادا کرتے تھے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعات سے زیادہ ادا نہیں کرتے تھے۔ آپ پہلے چار رکعات ادا کرتے تھے تم ان کی خوبصورتی اور طوالت کے بارے میں نہ پوچھو پھر آپ چار رکعات ادا کرتے تھے تم ان کی خوبصورتی اور طوالت کے بارے میں نہ پوچھو۔ پھر آپ تین رکعات ادا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ وتر ادا کرنے سے پہلے سونے لگے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! میری دونوں آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2430
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صلاة التراويح» (19 - 20): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2421»