کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وتر نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ایک رکعت سے وتر باطل ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2426
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاةِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : " يُصَلِّي أَحَدُكُمْ مَثْنَى مَثْنَى ، حَتَّى إِذَا خَشِيَ أَنْ يُصْبِحَ سَجَدَ سَجْدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی ایک شخص دو رکعات ادا کرتا رہے، یہاں تک کہ جب اسے صبح صادق قریب ہونے کا اندیشہ ہو، تو وہ ایک رکعت ادا کر لے وہ اس کے ذریعے اپنی ادا کی ہوئی نماز کو طاق کر لے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2426
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صلاة التراويح» (106 - 107): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2417»