کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وتر نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ایک رکعت کی نماز جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 2425
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، بِطَبَرِسْتَانَ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا ، قَالَ : " فَقَامَ حُذَيْفَةُ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ : صَفًّا خَلْفَهُ ، وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلاءِ مَكَانَ هَؤُلاءِ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، وَلَمْ يَقْضُوا " .
ثعلبہ زہدم بیان کرتے ہیں: ہم سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان میں موجود تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: آپ میں سے کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز خوف ادا کی ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اپنے پیچھے لوگوں کی دو صفیں بنائیں۔ ایک صف ان کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور دوسری صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی۔ انہوں نے اپنے پیچھے موجود لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ پلٹ کر ان لوگوں کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے، تو انہوں نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور ان حضرات نے اپنی نماز کو مکمل نہیں کیا (یعنی صرف ایک ہی رکعت ادا کی دوسری رکعت ادا نہیں کی)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2425
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (3/ 44)، «صحيح أبي داود» (1133). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، ثعلبة بن زهدم، قيل: له صحبة، ولا يصح، وهو تابعي ثقة روى له أبو داود والنسائي، وباقي السند على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2416»