کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وتر نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ وتر صرف زمین پر پڑھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 2421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ عَلَى رَاحِلَتِهِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا ، غَيْرَ أَنَّهُ لا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ " .قَالَ قَالَ سَالِمٌ : " وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يَسِيرُ لا يُبَالِي حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ " .
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ہی نفل نماز ادا کر لیتے تھے۔ خواہ اس کا رُخ کسی بھی سمت میں ہو آپ وتر بھی اس پر ادا کر لیتے تھے، البتہ فرض نماز اس پر ادا نہیں کرتے تھے۔ سالم نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اپنی سواری پر رہتے ہوئے رات کے وقت نوافل کر لیتے تھے حالانکہ وہ سواری چل رہی ہوتی تھی اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے، ان کا رُخ کس طرف ہے۔