کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وتر نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اگر آدمی صبح تک وتر نہ پڑھے تو اسے بعد میں وتر کی قضاء نہیں کرنی
حدیث نمبر: 2420
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ فَلَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو آپ نے رات کے نوافل ادا نہیں کیے تھے، آپ نے اگلے دن، دن کے وقت بارہ رکعات ادا کی تھیں۔