کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وتر نماز کا بیان - نویں خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ وتر فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 2418
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لَمَّا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ " .
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” پانچ نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، ان کے درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ “