کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: وتر نماز کا بیان - چھٹی خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ وتر فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 2415
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ ، وَأَوْتَرَ ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ ، وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ فَيُصَلِّيَ بِنَا ، فَأَقَمْنَا فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجَوْنَا أَنْ تَخْرُجَ فَتُصَلِّيَ بِنَا ، قَالَ : " إِنِّي كَرِهْتُ أَوْ خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان کے مہینے میں آٹھ رکعات پڑھائیں اور وتر ادا کیے اور جب اگلی رات آئی تو ہم لوگ مسجد میں اکٹھے ہو گئے۔ ہمیں یہ امید تھی، آپ تشریف لا کر ہمیں نماز پڑھائیں گے ہم وہاں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ صبح ہو گئی (اگلے دن) ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہمیں یہ امید تھی، آپ تشریف لا کر ہمیں نماز پڑھائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اس بات کو ناپسند کیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا، وتر تم پر لازم ہو جائیں گے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2415
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن لغيره - مكرر (2401). * [الْوِتْرُ] قال الشيخ: لفظ «الوتر» - هنا - منكر، ولم يرد في «مسند أبي يعلى» كما تقدم تحت الحديث (2401). تنبيه!! رقم (2401) = (2409) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف لضعف عيسى بن جارية، وهو في " مسند أبي يعلى " (1802)، وقد تقدم (2409).
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2406»