کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وتر نماز کا بیان - پانچویں خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ وتر فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 2414
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ فَلَمْ يُوتِرْ ، فَلا وِتْرَ لَهُ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جس شخص کو صبح صادق ہو جائے اور اس نے وتر ادا نہیں کیے ہوں، تو اس کے وتر نہیں ہوتے۔ “