کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: وتر نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ وتر فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 2409
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ ، فَلَمَّا كَانَتِ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ ، وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا ، فَلَمْ نَزَلْ فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا ، ثُمَّ دَخَلْنَا فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ ، وَرَجَوْنَا أَنْ تُصَلِّيَ بِنَا ، فَقَالَ : " إِنِّي خَشِيتُ أَوْ كَرِهْتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَانِ خَبَرَانِ لَفْظَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ ، وَمَعْنَاهُمَا مُتَبَايِنَانِ ، إِذْ هُمَا فِي حَالَتَيْنِ فِي شَهْرَيْ رَمَضَانَ ، لا فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ فِي شَهْرٍ وَاحِدٍ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں ہمیں آٹھ رکعات پڑھائیں پھر آپ نے وتر ادا کیے پھر جب اگلی رات آئی تو ہم لوگ مسجد میں اکٹھے ہو گئے ہمیں یہ امید تھی، آپ ہمارے پاس تشریف لائیں گے۔ ہم اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم مسجد میں اکٹھے ہوئے تھے۔ ہمیں یہ امید تھی، آپ ہمیں نماز پڑھائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” مجھے یہ اندیشہ ہوا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) میں نے اس بات کو ناپسند کیا، تم پر وتر کو لازم کر دیا جائے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان دونوں روایات کے الفاظ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان دونوں کا مفہوم بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے کہ یہ دو مختلف رمضانوں میں دو مختلف حالتوں میں پیش آئی تھیں ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی مہینے میں ایک ہی حالت میں واقعہ پیش آیا تھا۔
حدیث نمبر: 2410
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْوِتْرُ حَقٌّ ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِخَمْسٍ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِثَلاثٍ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” وتر حق میں جو شخص چاہے وہ پانچ وتر ادا کرے اور جو چاہے تین ادا کرے اور جو چاہے وہ ایک وتر ادا کرے۔ “