کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز دوبارہ ادا کرنے کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص اپنی نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرے وہ تنہا پڑھے پھر اگر وقت میں ہو تو دوبارہ ان کے ساتھ پڑھے
حدیث نمبر: 2406
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلاةَ ، فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ ، فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ بْنِ زِيَادٍ ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِي ، وَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، وَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ ، فَقَالَ : " صَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتَ مَعَهُمْ فَصَلِّ ، وَلا تَقُلْ : إِنِّي صَلَّيْتُ فَلا أُصَلِّي " .
ابوالعالیہ براء بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ابن زیاد نے ایک نماز تاخیر سے ادا کی تو عبداللہ بن صامت میرے پاس تشریف لائے میں نے ان کے لیے کرسی رکھی وہ اس پر تشریف فرما ہوئے۔ میں نے ان کے سامنے ابن زیاد کے اس عمل کا تذکرہ کیا، تو وہ اپنے ہونٹ چبانے لگے، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ میرے زانو پر مارا اور بولے: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ایک سوال کیا، تو انہوں نے میرے زانو پر اسی طرح ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہارے زانو پر ہاتھ مارا ہے، پھر انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے زانو پر اسی طرح ہاتھ مارا تھا جس طرح میں نے تمہارے زانو پر ہاتھ مارا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اس طرح کی صورت حال میں) تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لو اگر تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز ملے، تو تم اسے بھی ادا کر لو تم یہ نہ کہو، میں نماز ادا کر چکا ہوں اس لیے اب نہیں پڑھوں گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2406
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (483)، «التعليق على ابن خزيمة» (1637). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عمران بن موسى القزاز: ثقة، ومن فوقه ثقات على شرط مسلم، - عبد الوارث: هو ابن سعيد العنبري، وأيوب: هو ابن أبي تميمة السختياني، وأبو العالية البرَّاء، بالتشديد: نسبة إلى برية النَّبل، واختلف في اسمه فقيل: زياد وقيل: كلثوم، وقيل: أذينة، وقيل: ابن أذينة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2399»