کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض علماء کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے پہلے بیان کردہ خبروں سے متعارض ہے
حدیث نمبر: 2393
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ، أَنَّهُ قَالَ : " أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاحْتِلامَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ ، فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ میں اس وقت قریب البلوغ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ میں ایک صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا پھر میں اس سے نیچے اتر گیا، اور میں نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، پھر میں صف میں آ کر شامل ہو گیا تو اس حوالے سے کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔