کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ تین چیزیں نمازی کی نماز کو اس وقت توڑتی ہیں جب اس کے سامنے سترہ نہ ہو
حدیث نمبر: 2392
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلاتَهُ الْمَرْأَةُ ، وَالْحِمَارُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، فَمَا بَالُ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الأَصْفَرِ ؟ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ ، فَقَالَ : " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " .
عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ” جب کسی شخص کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز (سترے کے طور پر) نہ ہو، تو عورت گدھا اور سیاہ کتا (اس کے آگے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ “ راوی کہتے ہیں: اے (سیدنا) ابوذر (رضی اللہ عنہ)! سیاہ کتا کیوں؟ سرخ کتا یا زرد کتا کیوں نہیں، تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھیجے جس چیز کے بارے میں تم نے تجھ سے سوال کیا ہے اس کے بارے میں، میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2392
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2385»