کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ اس خبر کا پہلا حصہ موقوف ہے، نہ کہ مسند
حدیث نمبر: 2385
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقْطَعُ صَلاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ : الْحِمَارُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ ، وَالْمَرْأَةُ " ، قَالَ : قُلْتُ : مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ ؟ ، فَقَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : " الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” گدھا سیاہ کتا اور عورت آدمی (کے آگے سے گزر کر اس کی) نماز کو منقطع کر دیتے ہیں جب آدمی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی (کوئی چیز سترے کے طور پر) نہ ہو ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے) دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں؟ سرخ یا زرد کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیاه (کتا) شیطان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2385
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، محمد بن كثير: هو العبدي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2378»