کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ حکم اس کے لیے ہے جس کے سامنے سواری کا آخری حصہ نہ ہو
حدیث نمبر: 2383
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الأَذْرَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ عَمَّا يَقْطَعُ الصَّلاةَ ، فَقَالَ : إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْكَ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ : الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ ، قُلْتُ : مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَبْيَضِ ؟ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَذْرِمَةُ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى نَصِيبِينَ .
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے اس چیز کے بارے میں اس چیز کے بارے میں دریافت کیا: جو نماز کو توڑ دیتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: جب تمہارے آگے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز نہ ہو، تو عورت گدھا اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر نماز کو توڑ دیتے ہیں) میں نے کہا: اس میں سیاہ کتے کی کیا خصوصیت ہے زرد یا سفید کیوں نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “ سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” اذرمہ “ نصیبین کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے۔