کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس نماز میں، جس میں گدھا ان کے سامنے سے گزرتا تھا، ان کے سامنے ایک نیزہ نصب تھا اور یہ نیزہ گدھے، کتے، اور عورت کے گزرنے سے نماز کو ٹوٹنے سے روکتا تھا
حدیث نمبر: 2382
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِشْكَابَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ وَعِنْدَهُ أُنَاسٌ ، فَجَاءَ بِلالٌ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ جَعَلَ يَتْبَعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا ، قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي بِقَوْلِ : حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، قَالَ : وَأَخْرَجَ فَضْلَ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّاسُ مِنْ بَيْنِ نَائِلٍ ، وَنَاضِحٍ ، حَتَّى جَعَلَ الصَّغِيرُ يُدْخِلُ يَدَهُ تَحْتَ إِبَاطِ الْقَوْمِ فَيُصِيبُ ذَلِكَ ، وَرَكَزَ بِلالٌ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةً ، فَيَمُرُّ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ لا يُمْنَعُ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ " .
عون بن ابوجحیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ آپ اس وقت سرخ خیمے میں موجود تھے۔ آپ کے پاس کچھ لوگ بھی تھے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے۔ انہوں نے اذان دی انہوں نے (اذان دیتے ہوئے) اپنا منہ اس طرف بھی پھیرا اور اس طرف بھی پھیرا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یعنی «حی علی الصلوۃ» اور «حی علی الفلاح» کہتے ہوئے ایسا کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر باہر آئے، تو کچھ لوگوں کو وہ پانی ملا اور کچھ کو نہیں ملا، یہاں تک کہ ایک کم سن بچے نے لوگوں کی بغل کے نیچے سے اپنا ہاتھ داخل کیا، اور اس پانی تک پہنچ گیا پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک نیزہ گاڑھ دیا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے لگے) پھر گدھے یا عورت یا کتے کے (اس کے دوسری طرف سے گزرنے پر) منع نہیں کیا جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز میں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ مدینہ منورہ تشریف لانے تک دو، دو رکعات ہی ادا کرتے رہے۔