کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ نمازی اس شخص سے لڑے جو اس کے سامنے سے گزرنا چاہے
حدیث نمبر: 2370
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي ، فَلا يَدَعَنَّ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَإِنْ أَبَى ، فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے اگر وہ دوسرا شخص نہیں مانتا تو یہ اس کے ساتھ جھگڑا کرے کیونکہ اس (دوسرے شخص) کے ساتھ شیطان ہو گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2370
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 194). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم، ابن أبي فديك: هو محمد بن إسماعيل بن مسلم بن أبي فديك.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2364»