کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ کوئی نمازی کے سامنے سے گزرے
حدیث نمبر: 2366
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ : مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي ؟ قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " ، لا أَدْرِي سَنَةً قَالَ أَمْ شَهْرًا ، أَوْ يَوْمًا أَوْ سَاعَةً ؟ .
سیدنا بسر بن سعید بیان کرتے ہیں: سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تھا، تاکہ ان سے یہ دریافت کریں، انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، تو سیدنا ابوجہم رضی اللہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” نمازی کے آگے گزرنے والے شخص کو اگر یہ پتہ چل جائے، اسے کتنا گناہ ہوتا ہے، تو چالیس تک ٹھہرے رہنا اس کے لیے اس کے آگے سے گزرنے سے زیادہ بہتر ہو۔ “ (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم اس سے مراد چالیس سال ہیں، یا چالیس مہینے ہیں، یا چالیس دن ہیں، یا چالیس گھڑیاں ہیں۔)
حدیث نمبر: 2367
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي ، فَلا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ أَبَى ، فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ الشَّيْطَانُ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو، تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے وہ جہاں تک ہو سکے۔ اسے پرے کرنے کی کوشش کرے اگر وہ دوسرا شخص نہیں مانتا تو یہ اس کے ساتھ جھگڑا کرے کیونکہ وہ (دوسرا شخص) شیطان ہو گا۔