کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ حکم صرف نمازی کے لیے ہے، نہ کہ اس کے لیے جو نماز میں نہ ہو
حدیث نمبر: 2359
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ التَّثَاؤُبَ فِي الصَّلاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ ، فَلْيَكْظِمْ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” نماز کے دوران جمائی کا آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، جب کسی شخص کو یہ صورت حال محسوس ہو، تو وہ اسے روکنے کی کوشش کرے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2359
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الضعيفة» تحت رقم (2420): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، محمد بن وهب بن أبي كريمة صدوق روى له النسائي، ومن فوقه من رجال الصحيح محمد بن سلمة: هو الحرّاني، وأبو عبد الرحيم: هو خالد بن أبي يزيد الحراني وانظر (2357).
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2353»