کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی اپنی جمائی کو جہاں تک ہو سکے روکے یا اس وقت اپنا ہاتھ منہ پر رکھے
حدیث نمبر: 2358
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ ، أَوْ لِيَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ ، فَإِنَّهُ إِذَا تَثَاءَبَ فَقَالَ : آهْ ، فَإِنَّمَا هُوَ الشَّيْطَانُ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بیشکاللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے، تو جہاں تک ہو سکے وہ اس کو روکنے کی کوشش کرے یا پھر اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے، کیونکہ جب وہ جمائی لیتے ہوئے آہ کہتا ہے، تو اس کے اندر شیطان ہنس رہا ہوتا ہے (جس کے نتیجہ میں یہ آواز آتی ہے) ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2358
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الإرواء» -أيضا-: خ دون ذكر الوضع. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2352»