کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی اپنی نماز میں لڑنے والوں کے درمیان فرق کرے
حدیث نمبر: 2356
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَشْتَدَّانِ اقْتَتَلَتَا ، فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَعَ إِحْدَاهُمَا مِنَ الأُخْرَى ، وَمَا بَالَى بِذَلِكَ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اسی دوران اولاد عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں وہ ایک دوسرے سے جھگڑا کر رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو پکڑا اور ان میں سے ایک کو دوسری سے الگ کر دیا۔ آپ نے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2356
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (710). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، جرير: هو ابن عبد الحميد، وأبو الصهباء: هو صهيب البكري مولى ابن عباس وقد سقط من الأصل، واستدرك من الحديث (2381).
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2350»