کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو نماز میں ہلکے عمل کی جواز کی دلیل ہے
حدیث نمبر: 2349
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اعْتَرَضَ الشَّيْطَانُ فِي مُصَلايَ ، فَأَخَذْتُ بِحَلْقِهِ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى كَفِّي ، وَلَوْلا مَا كَانَ مِنْ دَعْوَةِ أَخِي سُلَيْمَانَ ، لأَصْبَحَ مُوثَقًا تَنْظُرُونَ إِلَيْهِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” شیطان میری جائے نماز کے سامنے آیا میں نے اس کے حلق کو پکڑ کر اس کا گلا دبایا یہاں تک کہ اس کی زبان کی ٹھنڈک مجھے اپنی ہتھیلی پر محسوس ہوئی اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا کا خیال نہ ہوتا تو صبح وہ (شیطان) باندھا ہوا ہوتا اور تم لوگ اسے دیکھ لیتے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2349
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صفة الصلاة»، «تمام المنة»: ق نحوه، وأتم منه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو، وباقي رجاله ثقات على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2343»