کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جگاتے تھے
حدیث نمبر: 2347
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ ، أَيْقَظَنِي ، فَأَوْتَرْتُ " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز ادا کر رہے ہوتے تھے۔ میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوئی ہوتی تھی جب آپ وتر ادا کرنے کا ارادہ کرتے تھے، تو آپ مجھے بیدار کر دیتے تھے، تو میں بھی وتر ادا کر لیتی تھی۔