کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اس عورت کے سامنے نماز پڑھ سکتا ہے جو اس کے سامنے سو رہی ہو
حدیث نمبر: 2343
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ ، لَقَدْ " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ غَمَزَنِي " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تم نے یہ بہت برا کیا ہے، ہم (خواتین کو) کتوں اور گدھوں کے ساتھ ملا دیا ہے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے تھے اور میں آپ کے سامنے چوڑائی کی سمت میں لیٹی ہوئی ہوتی تھی جب آپ وتر ادا کرنے کا ارادہ کرتے تھے، تو آپ مجھے ہلا دیتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2343
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (706): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، بندار لقب لمحمد بن بشار.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2337»