کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کیا کرتی تھیں جب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنا چاہتے اور وہ ان کے سامنے سو رہی ہوتیں
حدیث نمبر: 2342
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ بن أنس بن مالك ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلايَ فِي قِبْلَتِهِ ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي ، فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ ، وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا " ، قَالَتْ : وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوئی ہوئی ہوتی تھی۔ میری دونوں ٹانگیں آپ کی قبلہ کی سمت میں ہوتی تھیں، جب آپ سجدے میں جاتے تھے، تو آپ مجھے ہلا دیتے تھے، تو میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی تھی جب آپ کھڑے ہوتے تھے، تو میں انہیں پھر پھیلا لیتی تھی۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے۔